صفحات

Monday, 4 April 2016

گل بداماں نہ کوئی شعلہ بجاں ہے اب کے

گل بداماں نہ کوئی شعلہ بجاں ہے اب کے
چار سُو وقت کی راہوں میں دھواں ہے اب کے
سربُریدہ ہیں نظارے تو سحر خوں گشتہ
جس طرف دیکھیۓ مقتل کا سماں ہے اب کے
شامِ ہجراں جسے ہاتھوں میں لیے پھرتی تھی
کون جانے کہ وہ تصویر کہاں ہے اب کے
زندگی رات کے پھیلے ہوۓ سناٹے میں
دور ہٹتے ہوئے قدموں کا نشاں ہے اب کے
تیری پلکوں پہ کوئی خواب لرزتا ہو گا
میرے گیتوں میں کوئی درد جواں ہے اب کے
ایک اک سانس پہ دھوکا ہے کسی آہٹ کا
ایک اک گھاؤ اجالوں کی زباں ہے اب کے
صحنِ گلشن ہے بہاروں کے لہو سے رنگیں
شاخِ گل ہے کہ بس اک تیغ رواں ہے اب کے
جو کبھی حسن کے ہونٹوں پہ نہ آیا جامی
ہائے وہ حرفِ تسلی بھی گراں ہے اب کے​

خورشید احمد جامی

No comments:

Post a Comment