گل بداماں نہ کوئی شعلہ بجاں ہے اب کے
چار سُو وقت کی راہوں میں دھواں ہے اب کے
سربُریدہ ہیں نظارے تو سحر خوں گشتہ
جس طرف دیکھیۓ مقتل کا سماں ہے اب کے
شامِ ہجراں جسے ہاتھوں میں لیے پھرتی تھی
کون جانے کہ وہ تصویر کہاں ہے اب کے
زندگی رات کے پھیلے ہوۓ سناٹے میں
دور ہٹتے ہوئے قدموں کا نشاں ہے اب کے
تیری پلکوں پہ کوئی خواب لرزتا ہو گا
میرے گیتوں میں کوئی درد جواں ہے اب کے
ایک اک سانس پہ دھوکا ہے کسی آہٹ کا
ایک اک گھاؤ اجالوں کی زباں ہے اب کے
صحنِ گلشن ہے بہاروں کے لہو سے رنگیں
شاخِ گل ہے کہ بس اک تیغ رواں ہے اب کے
جو کبھی حسن کے ہونٹوں پہ نہ آیا جامی
ہائے وہ حرفِ تسلی بھی گراں ہے اب کے
خورشید احمد جامی
چار سُو وقت کی راہوں میں دھواں ہے اب کے
سربُریدہ ہیں نظارے تو سحر خوں گشتہ
جس طرف دیکھیۓ مقتل کا سماں ہے اب کے
شامِ ہجراں جسے ہاتھوں میں لیے پھرتی تھی
کون جانے کہ وہ تصویر کہاں ہے اب کے
زندگی رات کے پھیلے ہوۓ سناٹے میں
دور ہٹتے ہوئے قدموں کا نشاں ہے اب کے
تیری پلکوں پہ کوئی خواب لرزتا ہو گا
میرے گیتوں میں کوئی درد جواں ہے اب کے
ایک اک سانس پہ دھوکا ہے کسی آہٹ کا
ایک اک گھاؤ اجالوں کی زباں ہے اب کے
صحنِ گلشن ہے بہاروں کے لہو سے رنگیں
شاخِ گل ہے کہ بس اک تیغ رواں ہے اب کے
جو کبھی حسن کے ہونٹوں پہ نہ آیا جامی
ہائے وہ حرفِ تسلی بھی گراں ہے اب کے
خورشید احمد جامی
No comments:
Post a Comment