صفحات

Tuesday, 12 April 2016

دیوار گریہ؛ وہ کیسا شعبدہ گر تھا

دیوارِ گِریہ

وہ کیسا شعبدہ گر تھا
جو مصنوعی ستاروں
اور نقلی سورجوں کی
اِک جھلک دِکھلا کے
میرے سادہ دل لوگوں
کی آنکھوں کے دِئیے
ہونٹوں کے جگنو
لے گیا
اور اب یہ عالم ہے
کہ میرے شہر کا
ہر اِک مکاں
اِک غار کی مانند
محرومِ نوا ہے
اور ہنستا بولتا ہر شخص
اِک دیوارِ گِریہ ہے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment