حرف کی شہادت
(ذوالفقار علی بھٹو کی سُولی پر)
آؤ جس عیسیٰ کو ہم نے سُولی پر لٹکایا ہے
اُس کے لہولہان بدن پر بَین کریں
اور اشک بہائیں
اب قرض چکائیں
اُس کی کھڑاؤں وہ لے جائے
جس نے صلِیب اٹھائی تھی
چادر کا حقدار وہی ہے
جس نے کِیل لگائی تھی
اور کانٹوں کا تاج ہے اُس کا
جس کی آنکھ بھر آئی تھی
آؤ اب ہم سب عیسیٰ ہیں
لوگوں کو بتلائیں
مُردوں کو اب چھُو کر دیکھیں
اور کچھ اِعجاز دِکھائیں
لیکن اُس کا حرف تھا سب کچھ
حرف کہاں سے لائیں؟
احمد فراز
No comments:
Post a Comment