صفحات

Friday, 1 April 2016

اول عشق میں جذبے جوشیلے ہوں گے

اولِ عشق میں جذبے جوشیلے ہوں گے
آخر یہ سورج بھی برفیلے ہوں گے
روپ نگر کے سانپوں کی یہ خصلت ہے
جتنے سندر،۔ اتنے زہریلے ہوں گے
میری آنکھوں سے گر بوسے ٹپکے ہیں
ہونٹ تو اس ناری کے بھی گیلے ہوں گے
زخم ہرے کرنے کی اپنی لذت ہے
موج میں آ کر تم نے بھی چھِیلے ہوں گے
اک لمحے کو چار نہ ہونے پائیں آنکھیں
اس کے نیناں اتنے شرمیلے ہوں گے؟
ڈوب گئے ہیں کتنے سورج ان کے بیچ
آنکھوں پار بھی غم کے کچھ ٹیلے ہوں گے
آنکھیں چُندھیا جائیں گی کب سوچا تھا
تیرے آنسو اتنے چمکیلے ہوں گے؟

عطا تراب

No comments:

Post a Comment