صفحات

Friday, 1 April 2016

ابھی تو اور بھی مجھ کو عجیب ہونا ہے

ابھی تو اور بھی مجھ کو عجیب ہونا ہے
کہ اپنے درد کا خود ہی طبیب ہونا ہے
مِرا وجود مِرے گھر میں فالتو ہو گا
یہ حادثہ مِرے گھر میں عجیب ہونا ہے
کہیں کہیں مجھے کرنی ہے خود پرستی بھی
کہیں کہیں مجھے اپنا رقیب ہونا ہے
بنے گا میرا مدینہ ہی کربلا میری
کہ مجھ کو اپنے وطن میں غریب ہونا ہے
ترابؔ جان سے جو تم کو مار ڈالے گا
وہ عشق ہونا ہے، اور عنقریب ہونا ہے

عطا تراب

No comments:

Post a Comment