تھکن سمیٹ چکے ہیں غبار باندھ لیا
تمام رختِ سفر ایک بار باندھ لیا
درخت دیکھ رہے ہیں مسافروں کی طرف
یہ کس نے دھوپ کے آگے حصار باندھ لیا
طویل ہوتی ہوئی زندگی مجھے بھی دیکھ
ابھی میں تم سے جدا بھی نہیں ہوں پوری طرح
ابھی سے تم نے مِرا انتظار باندھ لیا
کوئی چراغ جلے گا نہ روشنی ہو گی
ہوا نے عہد اگر میرے یار باندھ لیا
رمزی آثم
No comments:
Post a Comment