صفحات

Sunday, 10 April 2016

جنگلوں میں پکار دی گئی ہے

جنگلوں میں پکار دی گئی ہے
عمر ایسے گزار دی گئی ہے
اس شجر کے قریب مت جانا
اس میں حیرت اتار دی گئی ہے
یہ مِری زندگی نہیں میری
یہ مجھے مستعار دی گئی ہے
ایک رستے پہ چل رہا ہوں میں
بس یہی رہ گزار دی گئی ہے
آنسوؤں کی قطار کے پیچھے
کیا کوئی آبشار دی گئی ہے
ہجر کا رنج کھنچتا ہوا دن
یا شبِ انتظار دی گئی ہے

رمزی آثم

No comments:

Post a Comment