جنگلوں میں پکار دی گئی ہے
عمر ایسے گزار دی گئی ہے
اس شجر کے قریب مت جانا
اس میں حیرت اتار دی گئی ہے
یہ مِری زندگی نہیں میری
ایک رستے پہ چل رہا ہوں میں
بس یہی رہ گزار دی گئی ہے
آنسوؤں کی قطار کے پیچھے
کیا کوئی آبشار دی گئی ہے
ہجر کا رنج کھنچتا ہوا دن
یا شبِ انتظار دی گئی ہے
رمزی آثم
No comments:
Post a Comment