Sunday, 10 April 2016

آنسوؤں کو بلائیے تو سہی

آنسوؤں کو بلائیے تو سہی
اور کچھ دن رلائیے تو سہی
آپ کے ہاتھ کی لکیروں میں
ہم کہیں ہیں دکھائیے تو سہی
کیا ملا دشت کی سیاحت سے
کچھ ملا بھی بتائیے تو سہی
زندگی بھی عجیب راحت ہے
خوشدلی سے بتائیے تو سہی
رنج تصویر میں نظر آئے
ایسا منظر بنائیے تو سہی
دھوپ خود راستہ بدل لے گی
پیڑ غم کا لگائیے تو سہی

رمزی آثم

No comments:

Post a Comment