آنسوؤں کو بلائیے تو سہی
اور کچھ دن رلائیے تو سہی
آپ کے ہاتھ کی لکیروں میں
ہم کہیں ہیں دکھائیے تو سہی
کیا ملا دشت کی سیاحت سے
زندگی بھی عجیب راحت ہے
خوشدلی سے بتائیے تو سہی
رنج تصویر میں نظر آئے
ایسا منظر بنائیے تو سہی
دھوپ خود راستہ بدل لے گی
پیڑ غم کا لگائیے تو سہی
رمزی آثم
No comments:
Post a Comment