سوز غم سے اشک کا ایک ایک قطرا جل گیا
آگ پانی میں لگی ایسی کہ دریا جل گیا
وقتِ دیدار آنکھ کا ہر ایک پردا جل گیا
دیکھئے سب ساز و سامانِ تماشا جل گیا
تھی رگِ برق جہندہ نبضِ بیمارِ فراق
الحذر اب دور مجھ سے بیٹھتا ہے چارہ گر
زخم پر رکھنے نہ پایا تھا کہ پھاہا جل گیا
آبلہ پہلے پڑا پھر زخم اس کے بعد داغ
مختصر یہ ہے یونہیں سب دل ہمارا جل گیا
آگ تو دل کی بجھا لینے دو پھر کچھ پوچھنا
ہوش کس کو جو بتائے کیا رہا، کیا جل گیا
داغِ الفت نے لگا دی آگ سب دل میں عزیزؔ
ایک چنگاری سے سارا گھر ہمارا جل گیا
عزیز لکھنوی
No comments:
Post a Comment