Wednesday, 6 April 2016

سوز غم سے اشک کا ایک ایک قطرہ جل گیا

سوز غم سے اشک کا ایک ایک قطرا جل گیا
آگ پانی میں لگی ایسی کہ دریا جل گیا
وقتِ دیدار آنکھ کا ہر ایک پردا جل گیا
دیکھئے سب ساز و سامانِ تماشا جل گیا
تھی رگِ برق جہندہ نبضِ بیمارِ فراق
دیکھتے ہی دیکھتے دستِ مسیحا جل گیا
الحذر اب دور مجھ سے بیٹھتا ہے چارہ گر
زخم پر رکھنے نہ پایا تھا کہ پھاہا جل گیا
آبلہ پہلے پڑا پھر زخم اس کے بعد داغ
مختصر یہ ہے یونہیں سب دل ہمارا جل گیا
آگ تو دل کی بجھا لینے دو پھر کچھ پوچھنا
ہوش کس کو جو بتائے کیا رہا، کیا جل گیا
داغِ الفت نے لگا دی آگ سب دل میں عزیزؔ
ایک چنگاری سے سارا گھر ہمارا جل گیا

عزیز لکھنوی

No comments:

Post a Comment