نشاں سب مٹا کر روانہ ہوئے
الاؤ بجھا کر روانہ ہوئے
وہ سب جاگنے والے چالاک تھے
کہانی سنا کر روانہ ہوئے
تھکن، گرد چہرے، جھکی گردنیں
جٹاؤں میں جن کی سمندر تھے بند
تماشہ دکھا کر روانہ ہوئے
سبھی کشتیاں ساتھ لیتے گئے
وہ دریا دکھا کر روانہ ہوئے
آشفتہ چنگیزی
No comments:
Post a Comment