خوشبو میں نہائے ہوئے جھونکے کی طرح تھا
بچپن کسی معصوم کے چہرے کی طرح تھا
تھا بے سر و سامانی کے عالم میں بھی خود مست
یہ دل کسی آزاد پرندے کی طرح تھا
اب تک وہ مِری ذات کے آنگن میں کھڑا ہے
کیوں وقت نے چھینا مِرا ماضی، مِرا بچپن
جو میرے لیے دھوپ میں سائے کی طرح تھا
عبدالرحمان واصف
No comments:
Post a Comment