Wednesday, 6 April 2016

خوشبو میں نہائے ہوئے جھونکے کی طرح تھا

خوشبو میں نہائے ہوئے جھونکے کی طرح تھا
بچپن کسی معصوم کے چہرے کی طرح تھا
تھا بے سر و سامانی کے عالم میں بھی خود مست
یہ دل کسی آزاد پرندے کی طرح تھا 
اب تک وہ مِری ذات کے آنگن میں کھڑا ہے
جو غم کے سمندر میں جزیرے کی طرح تھا
کیوں وقت نے چھینا مِرا ماضی، مِرا بچپن
جو میرے لیے دھوپ میں سائے کی طرح تھا

عبدالرحمان واصف

No comments:

Post a Comment