Wednesday, 6 April 2016

ستم گروں سے مسلسل فریب کھاتا ہوا

ستم گروں سے مسلسل فریب کھاتا ہوا
چلا ہوں جانبِ منزل قدم  بڑھاتا ہوا
سما گیا مِری آنکھوں میں جھلملاتا ہوا
ملن کا خواب نئی دھڑکنیں جگاتا ہوا 
میں سرگراں ہوں محبت کے ریگزاروں میں
گئے دنوں کی بہاروں کو گنگناتا ہوا
میں اس کے خوف سے شاید نکل نہ پاؤں کبھی
جو واہمہ ہے مِرے دل میں سرسراتا ہوا
نہیں کے لفظ نے کیا کیا قیامتیں ڈھا دیں
عذاب اترا سماعت پہ دل دُکھاتا ہوا
ادھیڑ عمری میں کتنا عجیب لگتا ہوں
میں روٹھتا ہوا تجھ سے تجھے مناتا ہوا
تو خواہشات کے دریا کو کیسے روکے گا
گزر ہی جائے گا یہ راستہ بناتا ہوا
تُو جس کے واسطے رویا تھا بیٹھ کر پہروں
چلا گیا ہے وہ تیری ہنسی اڑاتا ہوا

عبدالرحمان واصف

No comments:

Post a Comment