صفحات

Wednesday, 6 April 2016

کسی کے وعدے پر اتنا جو انتظار کیا

کسی کے وعدے پر اتنا جو انتظار کیا
ارے یہ کون سا دل تھا کہ اعتبار کیا
کچھ انتہا بھی ہے لو بند ہو گئیں آنکھیں
نِگہ نے کام دیا جب تک،۔ انتظار کیا
ستم ہے لاش پر اس بے وفا کا یہ کہنا
کہ آنے کا بھی کسی کے نہ انتظار کیا
سکون اس کی فنا کا سبب ہوا آخر
کسی نے دل کو کچھ اس طرح بے قرار کیا
کسی نے نزع کی اس طرح گتھیاں سلجھائیں
سرہانے بیٹھ کے ہر سانس کا شمار کیا
کچھ اس میں مصلحتِ ذوقِ زندگی بھی تھی
عزیزؔ وعدے کا اس کے جو اعتبار کیا

عزیز لکھنوی

No comments:

Post a Comment