کسی کے وعدے پر اتنا جو انتظار کیا
ارے یہ کون سا دل تھا کہ اعتبار کیا
کچھ انتہا بھی ہے لو بند ہو گئیں آنکھیں
نِگہ نے کام دیا جب تک،۔ انتظار کیا
ستم ہے لاش پر اس بے وفا کا یہ کہنا
سکون اس کی فنا کا سبب ہوا آخر
کسی نے دل کو کچھ اس طرح بے قرار کیا
کسی نے نزع کی اس طرح گتھیاں سلجھائیں
سرہانے بیٹھ کے ہر سانس کا شمار کیا
کچھ اس میں مصلحتِ ذوقِ زندگی بھی تھی
عزیزؔ وعدے کا اس کے جو اعتبار کیا
عزیز لکھنوی
No comments:
Post a Comment