صفحات

Sunday, 9 October 2016

جہنم کا پودا

ہِجو بر ضیا الحق 

جہنم کا پودا
وہ جہنم کا پودا ہے 
دور تک اس کی پھیلی جڑیں شِمر تک تو نظر آتی ہیں 
اس سے آگے کہاں جاتی ہیں 
اس کے آبا و اجداد کس کو خبر کون تھے 
نمرود و ہامان تھے، کہ فرعون تھے 
اس کا سایہ دھواں 
آگ اس کا ثمر 
شعلہ اس کی زباں 
لفظ بارود کی سنسناتی ہوئ گولیاں 
اور آواز صحراؤں کا بانجھ پن 
ہاتھ سانپوں کے پھن 
تیز تلوار سی انگلیاں 
زہر سانسوں میں، آنکھوں میں تاریکیاں 
اس کی پوشاک بے غیرتی
بے ضمیری کُلاہ 
قامتِ ناز پر خندہ زن پستیاں 
خونِ انسان اس کی غذا 
جھوٹ اس کی غذا

جوہر میر 

No comments:

Post a Comment