یہ بہار کا زمانہ یہ حسیں گلوں کے سائے
مجھے ڈر ہے باغباں کو کہیں نیند آ نہ جائے
تِری سازشی توجہ یہ نہیں تو اور کیا ہے
میں جہاں چلا سنبھل کر وہیں پاؤں ڈگمگائے
مِرے ضبطِ غم کی عظمت کا پتہ بھی چل گیا ہے
کوئی ہم سے پوچھے ان کے کرم و ستم کا عالم
کبھی مسکرا کے روئے، کبھی رو کے مسکرائے
کھِلے گلشنِ وفا میں،۔۔ گُلِ نامراد ایسے
نہ بہار ہی نے پوچھا نہ خزاں کے کام آئے
تیرے وعدے پہ کہاں تک مِرا دل فریب کھائے
کوئی ایسا کر بہانہ،۔ مِری آس ٹوٹ جائے
میں چلا شراب خانے جہاں کوئ غم نہیں ہے
جیسے دیکھنی ہو جنت مِرے ساتھ ساتھ آئے
فنا نظامی کانپوری
No comments:
Post a Comment