صفحات

Monday, 10 October 2016

خدایا حسن والوں پر عنایت یہ بھی کی ہوتی

خدایا حُسن والوں پر عنایت یہ بھی کی ہوتی
دہن شیریں تو بخشا تھا زباں شیریں بھی دی ہوتی
برابر کے تماشے میں غضب کی دل کشی ہوتی
بھڑکتے ہیں اِدھر شعلے، اُدھر بھی کچھ لگی ہوتی
سزا تو عقش نے پائی محبت کی عدالت میں
تقاضا یہ تھا پائے حُسن میں بیڑی پڑی ہوتی
کلیجے سے لگا رکھا ہے دنیا بھر کا غم ہم نے
یہی ہے زندگی یارب تو یہ ہم نے نہ کی ہوتی
بڑھا دی زندگی کی قدر و قیمت موت نے ورنہ
بغیر اس کے بہت بے لطف اپنی زندگی ہوتی
رتنؔ حُسنِ زباں کے ساتھ اگر حُسنِ بیاں ہوتا
جہاں میں قابلِ تقلید تیری شاعری ہوتی

پنڈت رتن پنڈوری

No comments:

Post a Comment