صفحات

Wednesday, 5 October 2016

زین جن پرندوں کے بال و پر نہیں ہوتے

زینؔ جن پرندوں کے بال و پر نہیں ہوتے
ان کے گھونسلے بھی تو اوج پر نہیں ہوتے
جن گھروں کی قسمت میں سُکھ نہ ہو مکینوں کا
وہ مکاں تو ہوتے ہیں، گھر مگر نہیں ہوتے
منزلوں کو پانے میں عمر بِیت جاتی ہے
راستے وفاؤں کے، مختصر نہیں ہوتے
کاش! مان لیتا دل، راہِ عشق میں ہر پل
دھوپ تن جلاتی ہے اور شجر نہیں ہوتے
ہم بھی کتنے ناداں تھے، جان ہی نہیں پاۓ
ساتھ چلنے والے سب، ہمسفر نہیں ہوتے
سو نقاب چہرے پر، ہر کوئی سجاۓ ہے
لوگ جیسے دِکھتے ہیں، بیشتر نہیں ہوتے
دل کی بات کیا کیجیے، یہ تو نا سمجھ ٹھہرا
فیصلے جو کرتا ہے، معتبر نہیں ہوتے
لُٹ گئی متاعِ جاں تب سمجھ میں آیا ہے
درد بانٹنے والے، چارہ گر نہیں ہوتے
زینؔ کیا سناتے ہو، اِن بتوں کو دردِ جاں
پتھروں کے سینے میں، دل، جگر نہیں ہوتے

اشتیاق زین

No comments:

Post a Comment