صفحات

Wednesday, 5 October 2016

دیوانگی کا ہم پہ جو الزام ہے تو ہو

دیوانگی کا ہم پہ جو الزام ہے، تو ہو
چرچا یہ ہر زباں پہ سرِ عام ہے، تو ہو
تقدیسِ عشق میں ہمیں منظور تشنگی
لبریز خواہشوں کا اگر جام ہے، تو ہو
لکھا ہے جو نصیب میں، ملتا ہے بس وہی
بے نام گر حیات کا انجام ہے، تو ہو
مجھ کو عزیز جاں سے ہیں تیرے یہ رنج و غم
نغمہ جو اب خوشی کا سرِ بام ہے، تو ہو
سینچیں گے ہر کلی کو جگر کے لہو سے ہم
گلشن میں گر جو کام یہ بدنام ہے، تو ہو
بدلوں گا خُو وفا کی، کسی طور بھی نہ میں
شامل جو عاصیوں میں مِرا نام ہے، تو ہو
اے یارِ خوش خرام، تِری کج روی کی خیر
میرے لئے یہ موجبِ آلام ہے، تو ہو
گر چل پڑے ہیں زینؔ تو رکنا فضول ہے
اب راستے میں غم کی اگر شام ہے، تو ہو

اشتیاق زین

No comments:

Post a Comment