دیوانگی کا ہم پہ جو الزام ہے، تو ہو
چرچا یہ ہر زباں پہ سرِ عام ہے، تو ہو
تقدیسِ عشق میں ہمیں منظور تشنگی
لبریز خواہشوں کا اگر جام ہے، تو ہو
لکھا ہے جو نصیب میں، ملتا ہے بس وہی
مجھ کو عزیز جاں سے ہیں تیرے یہ رنج و غم
نغمہ جو اب خوشی کا سرِ بام ہے، تو ہو
سینچیں گے ہر کلی کو جگر کے لہو سے ہم
گلشن میں گر جو کام یہ بدنام ہے، تو ہو
بدلوں گا خُو وفا کی، کسی طور بھی نہ میں
شامل جو عاصیوں میں مِرا نام ہے، تو ہو
اے یارِ خوش خرام، تِری کج روی کی خیر
میرے لئے یہ موجبِ آلام ہے، تو ہو
گر چل پڑے ہیں زینؔ تو رکنا فضول ہے
اب راستے میں غم کی اگر شام ہے، تو ہو
اشتیاق زین
No comments:
Post a Comment