ہر چند بھلاتا ہوں، بھلایا نہیں جاتا
اک نقشِ تخیل ہے، مٹایا نہیں جاتا
میں نے جو کہا، درد بڑھایا نہیں جاتا
کہنے لگے، نادان جتایا نہیں جاتا
امید کی کشتی کو سہارا تو لگا دو
اب ان کا تقاضا ہے، کہانی نہیں کہتے
جب قصۂ غم ہم سے سنایا نہیں جاتا
تم آؤ گے اور شب کو ذرا سوچ کے کہتے
تم سے تو تصور میں بھی آیا نہیں جاتا
طالبؔ مِری باتیں انہیں باور نہیں آتیں
دل چِیر کے پہلو سے دِکھایا نہیں جاتا
طالب باغپتی
No comments:
Post a Comment