وہ سامنے جو نگاہیں چرائے جاتے ہیں
وہ آج کل کے مسیحا بتائے جاتے ہیں
وہی ہو تم کہ جگہ پُتلیوں میں جن کو دی
وہی ہیں ہم کہ نظر سے گِرائے جاتے ہیں
قصور کس نے کرایا، قصور کس کا ہے
اڑا رہے ہیں شبِ ہجر کا مِری خاکہ
بہانہ یہ ہے کہ گیسو بنائے جاتے ہیں
یہ کیا ادا ہے کہ مجبورِ زندگی کر کے
ستمگری کے بھی احساں جتائے جاتے ہیں
تمام عمر کے سجدے فضول ہیں طالبؔ
کہیں نقوشِ مقدر مٹائے جاتے ہیں
طالب باغپتی
No comments:
Post a Comment