یوں بھی تِرا احسان ہے آنے کے لیے آ
اے دوست! کسی روز نہ جانے کے لیے آ
ہر چند نہیں شوق کو یارائے تماشا
خود کو نہ سہی مجھ کو دکھانے کے لیے آ
یہ عمر یہ برسات، یہ بھیگی ہوئ راتیں
جیسے تجھے آتے ہیں نہ آنے کے بہانے
ایسے ہی کسی روز نہ جانے کے لیے آ
مانا کہ محبت کا چھپانا ہے محبت
چپکے سے کسی روز جتانے کے لیے آ
تقدیر بھی مجبور ہے، تدبیر بھی مجبور
ان کہنہ عقیدہ کو مٹانے کے لیے آ
عارِض پہ شفق، دامنِ مژگاں پہ ستارے
یوں عشق کی توقیر بڑھانے کے لیے آ
طالبؔ کو یہ کیا علم کرم ہے کہ ستم ہے
جانے کے لیے، روٹھ منانے کے لیے آ
طالب باغپتی
No comments:
Post a Comment