صفحات

Tuesday, 4 October 2016

تقدیر کے لکھے کو بدلتے نہیں دیکھا

تقدیر کے لکھے کو بدلتے نہیں دیکھا
آ جائے جو سر پر، اسے ٹلتے نہیں دیکھا
کیوں لوگ ہوا باندھتے ہیں ہمتِ دل کی
ہم نے تو اسے گِر کے سنبھلتے نہیں دیکھا
احباب کی یہ شانِ حریفانہ سلامت
دشمن کو بھی یوں زہر اگلتے نہیں دیکھا
اشکوں میں سُلگتی ہوئی امید کو دیکھو
پانی سے اگر گھر کوئی جلتے نہیں دیکھا
وہ راہ سمجھاتے ہیں ہمیں حضرتِ رہبر
جس راہ پہ ان کو کبھی چلتے نہیں دیکھا
اس درجہ خوشی تم کو مِرے دل کے سکوں پر
شاید اسے پہلو میں مچلتے نہیں دیکھا
اے برق! اسیروں کی یہ تقدیر غضب ہے
خود اپنے نشیمن کو بھی جلتے نہیں دیکھا
الفت میں کوئی جان نکل جائے تو برحق
دل سے مگر ارمان نکلتے نہیں دیکھا
کیوں چاہنے والوں سےخفا ہیں اتنے
پروانوں سے یوں شمع کو جلتے نہیں دیکھا
اے عرشؔ گُنہ بھی ہیں تِرے داد کے قابل
تجھ کو کفِ افسوس بھی مَلتے نہیں دیکھا

عرش ملسیانی
پنڈت بال مکند

No comments:

Post a Comment