یہ حقیقت ہے تلخ سی گزری
کیا کہوں کیسے زندگی گزری
وقت سے کر سکے نہ سمجھوتہ
ہم میں بس اک یہی کمی گزری
سو مصائب ہے زندگی میں مگر
وہ رہے میرے ہمسفر جب تک
گنگناتے یہ زندگی گزری
میں نے سمجھا کہ آپ آئے ہیں
دل سے جب بھی کوئی خوشی گزری
ہر قدم آپ یاد آئے ہیں
ہر قدم آپ کی کمی گزری
بارِ خاطر تھے کچھ تو تیور بھی
کچھ گراں ان کی خامشی گزری
پھر کہاں ہیں سمجھ نہ پائے عرشؔ
ہم پہ ایسی بھی اک گھڑی گزری
عرش صہبائی
No comments:
Post a Comment