صفحات

Tuesday, 4 October 2016

یہ حقیقت ہے تلخ سی گزری

یہ حقیقت ہے تلخ سی گزری
کیا کہوں کیسے زندگی گزری
وقت سے کر سکے نہ سمجھوتہ
ہم میں بس اک یہی کمی گزری
سو مصائب ہے زندگی میں مگر
پھر بھی اپنی ہنسی خوشی گزری
وہ رہے میرے ہمسفر جب تک
گنگناتے یہ زندگی گزری
میں نے سمجھا کہ آپ آئے ہیں
دل سے جب بھی کوئی خوشی گزری
ہر قدم آپ یاد آئے ہیں
ہر قدم آپ کی کمی گزری
بارِ خاطر تھے کچھ تو تیور بھی
کچھ گراں ان کی خامشی گزری
پھر کہاں ہیں سمجھ نہ پائے عرشؔ
ہم پہ ایسی بھی اک گھڑی گزری

عرش صہبائی

No comments:

Post a Comment