صفحات

Saturday, 8 October 2016

تمہارے بعد مجھ کو زندگی برباد کر دے گی

تمہارے بعد مجھ کو زندگی برباد کر دے گی
گزر جاۓ گی جتنی ہے مگر ناشاد کر دے گی
یہ دنیا چین سے مجھ کو بھلا رہنے کہاں دے گی
ستم کوئی نہ کوئی اک نیا ایجاد کر دے گی 
یہ کرنا بات دیواروں سے تنہائی میں چھپ چھپ کر
مِری عادت ہے، یہ عادت مجھے برباد کر دے گی
یہ شوریدہ سری، اور ڈھونڈنا ہر موڑ پر تجھ کو
میری دیوانگی اک دن کوئی افتاد کر دے گی
تجھے کچھ یاد ہے اے دل! کہا تھا میں نے یہ الفت
تجھے برباد کردے گی،۔۔ ارے برباد کر دے گی
کٹے گی خوب ہی تو رات خود سے باتیں کرنے میں
تمہاری یاد جب تنہائیاں آباد کر دے گی
زباں بندی پہ بس تو ہے مگر اس سے بھی کیا حاصل
تڑپ دل کی بیاں چہرے کی ہر رُوداد کر دے گی
خلشؔ خوش فہم ہو جو غم کو دو روزہ سمجھتے ہو
غموں سے موت ہی اک دن تمہیں آزاد کر دے گی

خلش بجنوری

No comments:

Post a Comment