کیا ٹوٹا ہے اندر اندر، کیوں چہرہ کمہلایا ہے
تنہا تنہا رونے والوں، کون تمہیں یاد آیا ہے
چپکے چپکے سلگ رہے تھے، یاد میں ان کی دیوانے
ایک تارے نے ٹوٹ کے یارو، کیا ان کو سمجھایا ہے
رنگ برنگی اس محفل میں، تم کیوں اتنے چپ چاپ ہو
بھول بھی جاؤ پاگل لوگو، کیا کھویا، کیا پایا ہے
شعر کہاں ہے، خون ہے دل کا، لفظوں میں بکھرا ہے
دل کے زخم دکھا کر ہم نے، محفل کو گرمایا ہے
اب شہزاد یہ جھوٹ نہ بولو، وہ اتنا بیدرد نہیں
اپنی چاہت کو بھی پرکھو، گر الزام لگایا ہے
فرحت شہزاد
تنہا تنہا رونے والوں، کون تمہیں یاد آیا ہے
چپکے چپکے سلگ رہے تھے، یاد میں ان کی دیوانے
ایک تارے نے ٹوٹ کے یارو، کیا ان کو سمجھایا ہے
رنگ برنگی اس محفل میں، تم کیوں اتنے چپ چاپ ہو
بھول بھی جاؤ پاگل لوگو، کیا کھویا، کیا پایا ہے
شعر کہاں ہے، خون ہے دل کا، لفظوں میں بکھرا ہے
دل کے زخم دکھا کر ہم نے، محفل کو گرمایا ہے
اب شہزاد یہ جھوٹ نہ بولو، وہ اتنا بیدرد نہیں
اپنی چاہت کو بھی پرکھو، گر الزام لگایا ہے
فرحت شہزاد
No comments:
Post a Comment