اب تم سے کبھی گرچہ ملاقات نہ ہو گی
پر دل سے بھلانے کی تمہیں بات نہ ہو گی
تم مد مقابل ہو، مگر جان ہو میری
میں چال چلوں گا تو تمہیں مات نہ ہو گی
آنکھوں میں گھٹائیں تو اتر سکتی ہیں لیکن
اس ابر سے جاناں کبھی برسات نہ ہو گی
تم جس میں مجھے مل کے نہ گھر لوٹ کے جاؤ
کیا ایسی کوئی شام کوئی رات نہ ہو گی
فرحت شہزاد
پر دل سے بھلانے کی تمہیں بات نہ ہو گی
تم مد مقابل ہو، مگر جان ہو میری
میں چال چلوں گا تو تمہیں مات نہ ہو گی
آنکھوں میں گھٹائیں تو اتر سکتی ہیں لیکن
اس ابر سے جاناں کبھی برسات نہ ہو گی
تم جس میں مجھے مل کے نہ گھر لوٹ کے جاؤ
کیا ایسی کوئی شام کوئی رات نہ ہو گی
فرحت شہزاد
No comments:
Post a Comment