صفحات

Saturday, 8 October 2016

اب تم سے کبھی گرچہ ملاقات نہ ہو گی

اب تم سے کبھی گرچہ ملاقات نہ ہو گی
پر دل سے بھلانے کی تمہیں بات نہ ہو گی
تم مد مقابل ہو، مگر جان ہو میری
میں چال چلوں گا تو تمہیں مات نہ ہو گی
آنکھوں میں گھٹائیں تو اتر سکتی ہیں لیکن
اس ابر سے جاناں کبھی برسات نہ ہو گی
تم جس میں مجھے مل کے نہ گھر لوٹ کے جاؤ
کیا ایسی کوئی شام کوئی رات نہ ہو گی

فرحت شہزاد

No comments:

Post a Comment