پیار کرنے کی یہ اس دل کو سزا دی جائے
اس کی تصویر سرِ عام لگا دی جائے
خط میں اس بار اسے بھیجیۓ یہ سُوکھا پتا
اور اس پتے پہ اک آنکھ بنا دی جائے
اتنی پی جائے کہ مِٹ جائے من و تو کی تمیز
یعنی یہ ہوش کی دیوار گِرا دی جائے
آج ہر شے کا اثر لگتا ہے اُلٹا یارو
آج شہزاد کو جینے کی دُعا دی جائے
فرحت شہزاد
No comments:
Post a Comment