Saturday, 8 October 2016

پیار کرنے کی یہ اس دل کو سزا دی جائے

پیار کرنے کی یہ اس دل کو سزا دی جائے
اس کی تصویر سرِ عام لگا دی جائے
خط میں اس بار اسے بھیجیۓ یہ سُوکھا پتا
اور اس پتے پہ اک آنکھ بنا دی جائے
اتنی پی جائے کہ مِٹ جائے من و تو کی تمیز
یعنی یہ ہوش کی دیوار گِرا دی جائے
آج ہر شے کا اثر لگتا ہے اُلٹا یارو
آج شہزاد کو جینے کی دُعا دی جائے

فرحت شہزاد

No comments:

Post a Comment