سر پہ تیغِ بے اماں، ہاتھوں میں پیالہ زہر کا
کس طرح ہونٹوں پہ لاؤں حال اپنے شہر کا
بہہ رہے ہیں پانیوں میں گھر سفینوں کی طرح
ساحلوں سے اس طرح اچھلا ہے پانی نہر کا
اس بدن پر اب قبائے شہریاری تنگ ہے
رنگ آنکھوں میں عجب قوسِ قزح کے گھل گئے
دیدنی ہے موج میں آنا لہو کی لہر کا
دشمنی کی مے تو چھلکتی ہے بہت محسنؔ مگر
ذائقہ کچھ اور ہی ہے دوستی کے زہر کا
محسن احسان
No comments:
Post a Comment