صفحات

Thursday, 6 October 2016

وحشت کدے کی سمت بلانے لگے مجھے

وحشت کدے کی سمت بلانے لگے مجھے
کچھ روگ اپنے آپ ہی کھانے لگے مجھے
بس اک ذرا جلایا تھا ادراک کا دِیا
سارے چراغ مِل کے بجھانے لگے مجھے
میں نے تو بس جبِین ہی رکھی تھی فرش پہ
سب کیوں سمجھ کے خاک اڑانے لگے مجھے
سورج کی سمت کب سے رہی تھی مِری اڑان
رستے میں کیوں شجر یہ گرانے لگے مجھے
مردہ ضمیر لوگوں کے بے جان شہر میں
قبروں کے جیسے سارے ٹھکانے لگے مجھے
پشتوں سے جن رگوں میں ہے ناموس کا لہو
اونچے سبھوں سے ایسے گھرانے لگے مجھے
وہ بات جس کو پل میں کوئی اور کہہ گیا
وہ بات کہتے کہتے، زمانے لگے مجھے
خود پتھروں سے پھوڑ کے بیٹھی ہوں اپنا سر
ورنہ ہر ایک شخص ستانے لگے مجھے
سیماؔ بس ایک ہجر کا تازہ رہا تھا زخم
باقی تمام زخم پرانے لگے مجھے

سیما نقوی

No comments:

Post a Comment