وحشت کدے کی سمت بلانے لگے مجھے
کچھ روگ اپنے آپ ہی کھانے لگے مجھے
بس اک ذرا جلایا تھا ادراک کا دِیا
سارے چراغ مِل کے بجھانے لگے مجھے
میں نے تو بس جبِین ہی رکھی تھی فرش پہ
سورج کی سمت کب سے رہی تھی مِری اڑان
رستے میں کیوں شجر یہ گرانے لگے مجھے
مردہ ضمیر لوگوں کے بے جان شہر میں
قبروں کے جیسے سارے ٹھکانے لگے مجھے
پشتوں سے جن رگوں میں ہے ناموس کا لہو
اونچے سبھوں سے ایسے گھرانے لگے مجھے
وہ بات جس کو پل میں کوئی اور کہہ گیا
وہ بات کہتے کہتے، زمانے لگے مجھے
خود پتھروں سے پھوڑ کے بیٹھی ہوں اپنا سر
ورنہ ہر ایک شخص ستانے لگے مجھے
سیماؔ بس ایک ہجر کا تازہ رہا تھا زخم
باقی تمام زخم پرانے لگے مجھے
سیما نقوی
No comments:
Post a Comment