صفحات

Thursday, 6 October 2016

ایک بس تو نہیں ملتا ہے مجھے کھونے کو

ایک بس تُو نہیں ملتا ہے مجھے کھونے کو
ورنہ کیا کچھ نہیں ہوتا ہے یہاں ہونے کو
شدتِ غم سے ہے بے تاب زمیں رونے کو
آسماں روز برستا ہے لہو دھونے کو
دیکھ! بے درد زمانے کی زبوں حالی دیکھ
ایک شانہ نہیں ملتا ہے جہاں رونے کو
رات بھر خود سے گلے مل کے بہت روتی ہوں
جھوٹے منہ بھی نہیں کہتا ہے کوئی سونے کو
کتنی میلی ہے ہوس ناک نگاہوں کی چمک
کہ سمندر بھی بہت کم ہے جسےدھونے کو
اس کو بھی ہجر کا تاوان تو بھرنا ہو گا
کوئی دم میں ہے مکافات عمل ہونے کو
میری آواز بھی مجھ تک نہیں پہنچے گی جہاں
میں نے اپنے لئے رکھا ہے اسی کونے کو
کیسے ویران ہیں پتھر سے بھرے کھیت مِرے
ہل چلانے کو نہیں،۔ بیج نہیں بونے کو
کوئی کس طرح مِرے حال سے واقف ہوتا
میری آنکھوں میں کوئی اشک نہ تھا رونے کو
کھو گئے خواب تو ایسی بھی بڑی بات نہیں
میں نے باقی ہی کہاں چھوڑا ہے کچھ کھونے کو
آسمانوں میں کسے ڈھونڈ رہی ہوں سیماؔ
وہ تو بیٹھا ہے مِرے دل میں خدا ہونے کو

سیما نقوی

No comments:

Post a Comment