کنج تنہائی میں یہ دن بھی گزارے سارے
دل کے تارے کے سوا دور ہیں تارے سارے
ہم اسی راہ پہ چلتے ہوئے پہنچے ہیں یہاں
جس میں ہر دور کے ملتے ہیں اشارے سارے
پانچ دریاؤں کی لہروں پہ رواں رہتے ہیں
زرد پتوں نے سنائی ہے کہانی اصلی
سبز پتے تو نظر آئے نظارے سارے
ہم تو خوش ہیں اسی خوشبو میں جئے جاتے ہیں
باغِ الفت میں کھِلے پھول تمہارے سارے
اب زمیں زادے خود آئیں گے فلک کی جانب
آسمانوں نے اشارے تو اتارے سارے
عشقِ نافع نے تو فرصت ہی نہیں دی منظرؔ
کسی کونے میں پڑے دیکھے خسارے سارے
منظر نقوی
No comments:
Post a Comment