صفحات

Thursday, 6 October 2016

کنج تنہائی میں یہ دن بھی گزارے سارے

کنج تنہائی میں یہ دن بھی گزارے سارے
دل کے تارے کے سوا دور ہیں تارے سارے
ہم اسی راہ پہ چلتے ہوئے پہنچے ہیں یہاں
جس میں ہر دور کے ملتے ہیں اشارے سارے
پانچ دریاؤں کی لہروں پہ رواں رہتے ہیں
ہیں جو سر سبز خیالات ہمارے سارے
زرد پتوں نے سنائی ہے کہانی اصلی
سبز پتے تو نظر آئے نظارے سارے
ہم تو خوش ہیں اسی خوشبو میں جئے جاتے ہیں
باغِ الفت میں کھِلے پھول تمہارے سارے
اب زمیں زادے خود آئیں گے فلک کی جانب
آسمانوں نے اشارے تو اتارے سارے
عشقِ نافع نے تو فرصت ہی نہیں دی منظرؔ
کسی کونے میں پڑے دیکھے خسارے سارے

منظر نقوی

No comments:

Post a Comment