صفحات

Tuesday, 4 October 2016

پھر کون دیا لایا پھر کیسی شناسائی

پھر کون دیا لایا پھر کیسی شناسائی
سب شام سے پہلے کی باتیں ہیں مِرے بھائی
گھر کیسا محبت میں برباد ہوا دیکھو
اک بیل تھی صحرا کی دیوار پہ چڑھ آئی
جیسے کہ کلی چٹکی یا بوند کوئی ٹپکی 
دل ٹوٹ گیا لیکن آواز نہیں آئی
مجنوں نے جو صحرا میں مرنے سے نہیں پائی
وہ شہر میں جینے سے ہم کو ملی رسوائی
بس دیکھ لیا عاصمؔ اب لوٹ چلیں گھر کو 
محفل میں بھی آنے سے جاتی نہیں تنہائی

لیاقت علی عاصم​

No comments:

Post a Comment