گزر رہے ہیں زمانے کوئی نہیں آتا
پڑا ہوا ہوں اٹھانے کوئی نہیں آتا
میں مر چکا ہوں مجھے بھی خبر نہیں افسوس
میں جی رہا ہوں بتانے کوئی نہیں آتا
یہاں بھی ہوتی ہے شام اور بہت عجیب سی شام
یہ نیند بھی تو کھلی آنکھ کا تماشا ہے
گِلہ ہی کیا کہ جگانے کوئی نہیں آتا
تم اپنے آپ سے لڑتے ہو بے طرح عاصمؔ
غلط ہے کیا کہ بچانے کوئی نہیں آتا
لیاقت علی عاصم
No comments:
Post a Comment