صفحات

Tuesday, 4 October 2016

گزر رہے ہیں زمانے کوئی نہیں آتا

گزر رہے ہیں زمانے کوئی نہیں آتا
پڑا ہوا ہوں اٹھانے کوئی نہیں آتا
میں مر چکا ہوں مجھے بھی خبر نہیں افسوس
میں جی رہا ہوں بتانے کوئی نہیں آتا
یہاں بھی ہوتی ہے شام اور بہت عجیب سی شام
یہاں چراغ جلانے کوئی نہیں آتا
یہ نیند بھی تو کھلی آنکھ کا تماشا ہے
گِلہ ہی کیا کہ جگانے کوئی نہیں آتا
تم اپنے آپ سے لڑتے ہو بے طرح عاصمؔ
غلط ہے کیا کہ بچانے کوئی نہیں آتا

لیاقت علی عاصم

No comments:

Post a Comment