صفحات

Sunday, 9 October 2016

روز ہوتی ہے قیامت برپا

ملک کے حالات کی ترجمانی کرتی ایک نظم

روز ہوتی ہے قیامت برپا
روز ہوتی ہے اجل کی سازش
روز ہوتی ہے لہو کی بارش
روز گِرتی ہیں کڑیل لاشیں
روز ڈھلتے ہیں چمکتے سورج
روز ہو جاتی ہیں بیوہ شامیں
دیجۓ پُرسہ کسے
کس کی کمر کو تھامیں

جوہر میر 

No comments:

Post a Comment