ملک کے حالات کی ترجمانی کرتی ایک نظم
روز ہوتی ہے قیامت برپا
روز ہوتی ہے اجل کی سازش
روز ہوتی ہے لہو کی بارش
روز گِرتی ہیں کڑیل لاشیں
روز ڈھلتے ہیں چمکتے سورج
روز ہو جاتی ہیں بیوہ شامیں
دیجۓ پُرسہ کسے
کس کی کمر کو تھامیں
جوہر میر
No comments:
Post a Comment