Sunday, 9 October 2016

اسلام آباد کے کوفے سے میں سندھ مدینے آئی ہوں

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بیگم نصرت بھٹو کی سہالہ جیل سے رہائی کے بعد کہی گئی ایک نظم

اسلام آباد کے کوفے سے
میں سندھ مدینے آئی ہوں
مت پوچھو کیا کھو آئی ہوں
مت پوچھو میں کیا لائی ہوں
کچھ منظر ہیں، کچھ یادیں ہیں
کچھ آنسو، کچھ فریادیں ہیں
کچھ لمحوں کی سوغاتیں ہیں
کچھ گھڑیوں کی رُودادیں ہیں
کچھ سنگ زادوں کے تحفے ہیں
جو کچھ بھی ملا لے آئی ہوں
زینب کی خطابت کا صدقہ
شبیر سے مانگ کے لائی ہوں

جوہر میر 

No comments:

Post a Comment