صفحات

Tuesday, 4 October 2016

دل بہل جائے گا اس کا مجھے اندازہ ہے

دل بہل جائے گا، اس کا مجھے اندازہ ہے
بات یہ ہے کہ مِرا زخم ابھی تازہ ہے
جانے کس طرح صبا تیری خبر لائے گی
میرے زِنداں میں نہ روزن ہے نہ دروازہ ہے
ہاں تِرے جبر کی شہرت بھی بہت تھی لیکن
اب تو بستی میں مِرے صبر کا آوازہ ہے
جتنے بھی دکھ تھے مجھے سونپ دیئے ہیں عامرؔ
دینے والے کو مِرے ظرف کا اندازہ ہے

مقبول عامر

No comments:

Post a Comment