دل بہل جائے گا، اس کا مجھے اندازہ ہے
بات یہ ہے کہ مِرا زخم ابھی تازہ ہے
جانے کس طرح صبا تیری خبر لائے گی
میرے زِنداں میں نہ روزن ہے نہ دروازہ ہے
ہاں تِرے جبر کی شہرت بھی بہت تھی لیکن
جتنے بھی دکھ تھے مجھے سونپ دیئے ہیں عامرؔ
دینے والے کو مِرے ظرف کا اندازہ ہے
مقبول عامر
No comments:
Post a Comment