Wednesday, 5 October 2016

خدارا بخش دو اب تو

خدارا بخش دو اب تو

خدارا بخش دو اب تو
تمہاری مہربانی سے بہت کچھ سہہ لیا ہم نے
کہیں روٹی کے لالے ہیں
کہیں بجھتے اجالے ہیں
کہیں آنکھوں میں اشکِ خوں
کہیں تن من پہ چھالے ہیں

جہاں چاہت کی تھی خوشبو، وہاں بارود کی بو ہے
جہاں بستی تھیں بس خوشیاں، وہاں ماتم کی آوازیں
سہانے خواب تھے جس جا، وہاں اب وحشتیں ناچیں
سرِ بازار اب ہاۓ، ہماری خواہشیں ناچیں
نئی ہر روز ہی ہم پر، ہزاروں آفتیں ناچیں
تمہارے عہدِ شاہی میں، ہزاروں پھول ایسے ہیں
کہ مجبوری جنہیں بس اِک نوالے ہی میں بیچ آئے
بہت معصوم کلیاں تھیں
جنہیں حالات کے دھارے سرِ بازار لے آۓ
جو معمارِ وطن تھے کل، انہیں ’خود کش‘ بنا ڈالا
سنبھل سکتے تھے جو شاید، انہیں پل میں گرا ڈالا
تھے بوڑھے ناتواں کاندھے
جنہیں کچھ اور بھی تم نے ہلا ڈالا، جھکا ڈالا
اور اس پر بھی تمہیں دعویٰ؟
مسیحا ہو، سہارے ہو، کہ محسن تم ہمارے ہو؟
خدارا بخش دو اب تو
خدارا بخش دو اب تو

اشتیاق زین

No comments:

Post a Comment