تنگ آیا ہوں یا خدا! توبہ
دل کا کہنا کروں میں یا توبہ؟
دل میں خواہش ہے ظاہراً، توبہ
دل کا کہنا کروں میں یا توبہ؟
مجھ سے اور الفتِ بتاں چھُوٹے
توبہ، توبہ، شراب دے ساقی
اب میں توبہ سے کر چکا توبہ
تُو وہ بت کہ دیکھتے ہی تجھے
لوگ کہتے ہیں، یا خدا! توبہ
تجھ سے میں عہد توڑنے کا نہیں
توڑ ڈالوں گا ساقیا! توبہ
میری گستاخیوں پہ بولے نظامؔ
تُو بھی ہے کتنا بے حیا، توبہ
نظام رامپوری
No comments:
Post a Comment