زیست سے ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہیں
عشق کا تیر کھائے بیٹھے ہیں
وہ اشاروں میں ان کا کہنا ہائے
دیکھو اپنے پرائے بیٹھے ہیں
چشمِ گریاں! یہ کس نے پونچھے اشک
کوئی مطلب کی بات کہہ نہ سکے
بگڑی صورت بنائے بیٹھے ہیں
آج منظور کیا ہے ان کو نظامؔ
آستینیں چڑھائے بیٹھے ہیں
نظام رامپوری
No comments:
Post a Comment