Sunday, 9 October 2016

زیست سے ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہیں

زیست سے ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہیں
عشق کا تیر کھائے بیٹھے ہیں
وہ اشاروں میں ان کا کہنا ہائے
دیکھو اپنے پرائے بیٹھے ہیں 
چشمِ گریاں! یہ کس نے پونچھے اشک
دیکھ تو کون آئے بیٹھے ہیں؟
کوئی مطلب کی بات کہہ نہ سکے
بگڑی صورت بنائے بیٹھے ہیں
آج منظور کیا ہے ان کو نظامؔ
آستینیں چڑھائے بیٹھے ہیں

نظام رامپوری

No comments:

Post a Comment