نہیں سُوجھتا کوئی چارا مجھے
تمہاری جدائی نے مارا مجھے
اُدھر آنکھ لڑتی ہے اغیار سے
اِدھر کرتے جانا اشارا مجھے
تُو اک بار سن لے مِرا حال کچھ
یونہی روز آنے کو کہتے ہو تم
نہیں اعتبار اب تمہارا مجھے
کسے سے مجھے کچھ شکایت نہیں
نظامؔ اپنے ہی دل نے مارا مجھے
نظام رامپوری
No comments:
Post a Comment