ایک پتہ سا جو خون میں تر لگتا ہے
ڈار سے بچھڑی ہوئی کونج کا پر لگتا ہے
پھر ہوا جھومی ہے راہوں میں شجر جھومے ہیں
پھر مجھے آج وہ مصروفِ سفر لگتا ہے
میرے ہونٹوں پہ تبسم بھی گلہ ہو جیسے
کوئی پتھر سے ہے مانوس کوئی شیشے سے
مجھ کو ہر شخص یہاں اہلِ ہنر لگتا ہے
تم نے پھینکا ہے جسے زیست کی پچھلی صف میں
سب سے اونچا تو اسی شخص کا سر لگتا ہے
جس پہ الزام ہے اب کور نگاہی کا وفاؔ
وہ تو اک حلقۂ اربابِ نظر لگتا ہے
وفا حجازی
No comments:
Post a Comment