صفحات

Tuesday, 1 November 2016

ایک پتہ سا جو خون میں تر لگتا ہے

ایک پتہ سا جو خون میں تر لگتا ہے
ڈار سے بچھڑی ہوئی کونج کا پر لگتا ہے
پھر ہوا جھومی ہے راہوں میں شجر جھومے ہیں
پھر مجھے آج وہ مصروفِ سفر لگتا ہے
میرے ہونٹوں پہ تبسم بھی گلہ ہو جیسے
آپ کی آنکھ میں آنسو بھی گہر لگتا ہے
کوئی پتھر سے ہے مانوس کوئی شیشے سے
مجھ کو ہر شخص یہاں اہلِ ہنر لگتا ہے
تم نے پھینکا ہے جسے زیست کی پچھلی صف میں
سب سے اونچا تو اسی شخص کا سر لگتا ہے
جس پہ الزام ہے اب کور نگاہی کا وفاؔ
وہ تو اک حلقۂ اربابِ نظر لگتا ہے

وفا حجازی

No comments:

Post a Comment